دل سے دل کو جُدا نہیں کرتے
جینا, مرنا, سزا نہیں کرتے

تو خطائیں معاف کر دے گا
تیرے بندے خُدا!! نہیں کرتے

بعد جس کے غرور ٹپکے, ہم
ایسا سجدہ ادا نہیں کرتے

جب سے دیکھی ہے سانولی صورت
چاند کو ہم تکا نہیں کرتے

لوح پر یہ بھی ہو لِکھا شاید
"حسن والے وفا نہیں کرتے"

بولی میسج کبھی نہ آئے اب
کہہ دیا ہم نے جا, نہیں کرتے

جن کا ملنا نہ ہو مقدر میں
ان سے بازِغ گلہ نہیں کرتے

.............منور حسین بازِغ